اسرائیل کن 6 مسلم ممالک کواپنا دوست بنانے میں مصروف ہے؟ اور اس گھناؤنی سازش کے پیچھےاصل مقاصد کیا ہیں؟ ایک انکشاف نے سب کے رونگٹے کھڑے کردیئے

" >

لاہور (ویب ڈیسک) فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے اسرائیل نے بڑا انکشاف کر دیا ہے، اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتین یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جن 6 عرب ممالک کو اسرائیل کا دشمن تصور کیا جاتا رہا تھا لیکن اب انہی سے ہم رابطے میں

ہیں جنہیں خفیہ رکھا گیا تھا ، نیتین یا ہو نے اس بات کا اعتراف ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا ، نیتین یا ہو نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ہماری حکومت جن 6 عرب ممالک کو اپنا دشمن تصور کرتی تھی اب انہی سے مذاکرات اور روابط کا سلسلہ جاری ہے جو کہ میں سمجھتاہوں کہ مشرق وسطی میں قیام امن کےلیے ضروری ہے ، یاد رہے کہ گزشتہ مہینے وارسا میں امریکہ کی زیر قیادت منعقدہ عرب۔اسرائیل کانفرنس میں نیتین یاہو نے متعدد عرب رہنماوں سے ملاقاتیں کی تھیں حتی اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ سال 26 اکتوبر کو سلطنت اومان کا بھی دورہ کرتےہوئے سلطان قابوس بن سعید سے ملاقات کی تھی، یاد رہے کہ اس سے قبل خبر یہ بھی تھی کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر ‘فجر75′ طرز کے میزائل سے حملہ کیا گیا جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں حماس کے ٹھکانوں اور خان یونس بندرگاہ پر بمباری کی تھی ، اسرائیلی طیاروں‌ کی طرف سے جنوبی غزہ میں حماس کے عسکری مراکز اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حماس نے اسرائیل کی طرف سے ممکنہ حملے کے خدشے کے تحت اپنے تمام مراکز پہلے ہی خالی کرا لے تھے، اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری کے بعد غزہ سے سرحد کی دوسری طرف یہودی کالونیوں پر میزائل داغے گئے۔ یہودی کالونیوں میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنائی دی جاتی رہی ہیں، غزہ سے داغے گئے دو میزائلوں کو اسرائیلی فوج

روکنے میں ناکام رہی اور دونوں میزائل تل ابیب میں جا گرے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے لیے حیران کن ہے۔ ہمیں اس کی توقع نہیں تھی کہ فلسطینیوں کے میزائل تل ابیب کو نشانہ بنا سکتے ہیں، فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے میزائل حملوں کے بعد تل ابیب کے شمالی علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، تل ابیب میں میزائل گرنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاھو نے وزارت دفاع کے ہیڈ کواٹزر میں سیکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں غزہ کی پٹی سے داغے جانے والے راکٹوں اور تازہ صورت حال سے نمٹنے پرغور کیا گیا، ادھرغزہ کی پٹی کی حکمراں حماس اور اسلامی جہاد نے تل ابیب پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔ حماس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں کسی گروپ نے ابھی تک تل ابیب پر’الفجر75’ میزائل داغنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، اور اب خبر یہ ہے کہ فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے اسرائیل نے بڑا انکشاف کر دیا ہے، اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتین یاہو نے اعتراف کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل جن 6 عرب ممالک کو اسرائیل کا دشمن تصور کیا جاتا رہا تھا لیکن اب انہی سے ہم رابطے میں ہیں جنہیں خفیہ رکھا گیا تھا ، نیتین یا ہو نے اس بات کا اعتراف ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا ، نیتین یا ہو نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ہماری حکومت جن 6 عرب ممالک کو اپنا دشمن تصور کرتی تھی اب انہی سے مذاکرات اور روابط کا سلسلہ جاری ہے جو کہ میں سمجھتاہوں کہ مشرق وسطی میں قیام امن کےلیے ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں