والٹ دزنی کس کس طرح ناکام ہوا؟

" >

دنیا والٹ دزنی کے نام سے واقف ہے کیونکہ والٹ دزنی دنیا کی سب سے بڑی اور مشہور اینیمیشن کمپنی ہے۔ ’مارول سٹوڈیو ‘ اور ’سٹار وار ‘ جیسے بڑے بڑے نام والٹ دزنی کے ساتھ منسوب ہیں , والٹ ڈزنی کمپنی کے اثاثوں کی مالیت کا شمار کرنا ہی کافی دشوار کام ہے۔
بلا شبہ والٹ دزنی دنیا کے سب سے بڑے بزنسوں میں سے ایک ہے۔ لیکن لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ والٹ ڈزنی بذات خودایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور اس نے بچپن سے اخبار فروخت کر کر کے اپنا اور اپنی ماں کا گزارہ چلایا تھا، یہی نہیں اس نے بعد میں بھی لوگوں کے گھر ڈرائیور بن کر بھی کام کیا۔ جب اس نے اپنا پہلا سٹودیو کھولا تو اپنے بڑے بھائی سے پیسے ادھار لیے اور اپنے پہلے کارٹون لانچ کیے۔ اس کے بنائے ہوئے کیر یکٹر’ ڈانلڈ ڈک‘ اور ’مکی ماؤس ‘آج بھی دنیا بھر میں بہت سراہے جاتے ہیں لیکن اس نے اپنے سٹوڈیو کے کاروبار میں اپنے جتنے دوست شامل کیے تھے وہ اس کا سارا منافع لے کر نو دو گیارہ ہو گئے تھے لیکن والٹ ڈزنی نے ہار نہیں مانی تھی اور ڈزنی تھیم پر پارک بنانے کا ارادہ کیا تھا۔ اس وقت بھی اس کے اپنے بھائی نے بھی اس کی ذہنی حالت کا مزاق اڑایا تھا۔ والٹ ڈزنی کے بارے میں دنیا اس بات سے بھی بے خبر ہے کہ اس کے پہلے پہل کے کچھ کارٹون جیسے ’پنوکیو‘ اور ’فانٹیشیہ‘ جوآج کے دور میں بچوں میں فیری ٹیلز کے طور پر بے حد مقبول ہیں، اپنے وقت میں یہ سب ناکام ہوئے تھے۔ ان سے والٹ ڈزنی کو بہت مالی نقصان ہوا تھا۔ اس کی مقبولیت میں بھی بہت کمی آئی تھی۔ یہ تو آج کے دور میں اس کے سارے کارٹون لوگوں میں پسند کیے جاتے ہیں۔ اس وقت کے بہت سارے کارٹونوں کی کہانیاں بہت گہری اور دلچسپ تھیں لیکن وہ لوگوں میں مقبول نہیں ہوئی تھیں۔ آج جب والٹ دزنی کا بزنس ایک ملین ڈالر فرینچائز بن گیا ہے تو دنیا اس کی بنائی ہوئی ہر تخلیق کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ مگر باقی تمام بڑی شخصیتوں کی طرح اگر آپ والٹ دزنی کو بھی اس کے اپنے وقت میں دیکھیں تو اندازہ ہو گا کہ اس نے بہت بڑی بڑی ناکامیاں دیکھی تھیں اور کئی بار وہ دنیا میں بالکل تن تنہا رہ گیا تھا۔ سبق حا صل کریں کہ ناکامی آپ کی زندگی کو ختم نہیں کرتی بلکہ یہ تو راہ کی بہت سی رکاوٹوں میں سے ایک ہوتی ہے، زندگی اسی طرح چلتی رہتی ہے اور انسان ایک کے بعد دوسری ٹھوکر کھا کھا کر گرتا اور سنبھلتا رہتا ہے۔ تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے ہاں اگر نام پیداکرنا ہے تو محنت تھوڑی زیادہ لگتی ہے۔
میں اپنے آپ کو ایک بہت عام انسان گردانتی ہوں اور مجھے تو یہی معلوم ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے جتنی ٹھوکریں ان سارے لیڈروں کو کھانی پڑی ہیں، اگر ان کی جگہ میں ہوتی تو کچھ دنوں میں تو بیڈ سے نکلنا بھی میرے لیے محال ہوتا۔ یہ بات میں نے اس لیے بولی ہے کہ ہمیں سمجھ آجائے کہ عام انسان اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے۔ فرق حوصلے کا ہوتا ہے، حوصلہ انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ سو دفعہ شکست کھا کر بھی ہار نہیں مانتا اور محنت اور مثبت سوچ کو اپنا شعار بناتا ہے۔ آخر میں جیسے وہ اپنی تاریخ رقم کرنا چاہتا ہے، ویسے ہی رقم کر کے اس دنیا سے جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے وہ کیا خوب کہا ہے کہ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں