مجھے اچھی مائیں دو میں تمھیں بہترین قوم دوں گا

" >

مشہور زمانہ سپہ سالار نپولین بونا پارٹ نے ایک ایک تاریخی جملہ کہا ” تم مجھے اچھی مائیں دو میں تمھیں بہترین قوم دوں گا ” . اسرائیل میں جب بچہ ماں کے شکم میں ہوتا ہے تو ماں کو تکنیکی علوم پڑھاے جاتے ہیں تا کہ بچے کے اندر یہ صلاحیتیں پیدا کی جا سکیں . ترقی یافتہ ملکوں میں حاملہ خواتین کو کسی بھی پریشان کن صور تخال سے دور رکھا جاتا ہے اور اس سے کوئی ایسی بات نہیں کی جاتی جس سے اسکے ذھن میں منفی خیالات /رویے جنم لیں . انڈو پاک میں صورت حال اس سے بلکل مختلف ہوتی ہے . ہماری عورتیں یہ عرصہ جس طرح گزا رتی ہیں اس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں . سائنس کی تحقیق سے ثابت ہےکہ بچہ اپنی فطرت کا اسی فیصد اپنی ماں سے لیتا ے باقی بیس فیصد اپنے باپ سے لیتا ہے . البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بچہ زیادہ تر اپنے باپ کو اور بچی اپنی ماں کو نقل کرتی ہے اور کئی دفع بچہ ہو یا بچی ماں اور باپ میں سے غالب شحصیت کو نقل کرتا ہے .بچہ کی پیدائش اور اسکی پرورش صدیوں پرانا عمل ہے اور دنیا کی تمام بڑی شحصیت اسی عمل سے ہو کر عظیم بنی ہیں .خیرانی کی بات یہ ہے کہ یہی صدیوں پرانا عمل آج کل اس طرح کی شحصیت کیوں نہیں پیدا کر پا رہا . حضور والا گزارش یہ ہے کہ جوں جوں ہم ایک دوسرے سے کٹ رہے ہیں ہمارا جذبہ ، ہمارا پیار اور ہماری نفرتیں صرف چند رشتوں تک سمٹ کر رہ گئی ہیں اور وہ چند رشتے ماں ، باپ یا بیوی بچوں تک پہنچ گئے ہیں . الله تعالہ نےانسان کی فطرت میں بانٹنا لکھ کر بھیجا ہے لیکن بانٹنے کی حد کا فیصلہ انسان نے خود کرنا ہے . بدقسمتی سے ہم اس نہج پر آ گئے ہیں.
جہاں ہم اپنے جذبات اور پیار کا حقدار صرف اپنے ماں ،باپ ،بیوی بچوں یا بہن بھائی کو ہی سمجھتے ہیں باقی انسانوں سے تو جیسے ہمارا واسطہ ہی نہیں ہے . یاد رکھئے گا کے نفرت ہمیشہ دو طریقوں سے پھیلتی ہے . انسان کی جبلّت میں ہے کہ جس سے تعلّق نہ ہو اسے بغیر کسی وجہ کے کبھی پیار نہیں کرتا اور چھوٹی سی بات پر نفرت کی بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر دیتا ہے. نفرت دوسری صورت میں ان لوگوں سے کرتا ہے جواسکی شدید محبّت کے مالک ہوں جیسے گھر والے اور رشتہ دار . نفرت کی یہ دونوں صورتیں آپ کو ہمارے معاشرے میں کثرت سے ملیں گی .معاشرے کی ایسی صورتخال میں جب ہم صرف اپنے بچوں سے شدید محبّت کا اظہار کرتے ہیں اور اس اظہار میں یہ توقع بھی رکھ لیتے ہیں کہ ہمارے پیار کا بدل بھی اسی طرح آے گا بھلے ہم انکے ساتھ جو چاہے رویہ رکھیں مگر ہم یہاں غلط ہوتے ہیں . ہم انہیں زندگی کی ہر آسایش مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ انھیں کوئی تکلیف نہ ہو اور ہر انکی ہر مشکل کو خود حل کرنے کی کوشش کر تے ہیں تا کہ انھیں آسانی ہو . انکے ہر کام میں اپنی راے مسلّط کرتے ہیں تا کہ ان سے کوئی کام غلط نہ ہو جاے .انکے ہر فیصلے کی نفی کرتے ہیں کہ ان سے کوئی غلط فیصلہ نہ ہو جاے حتیٰ کہ انکی شادی بھی ان سے پوچھے بغیر کرتے ہیں کہ انکو کیا پتا رشتے کیسے جوڑے جاتے ہیں اور تو اور بچوں کی گنتی پر ہم اعترض کرتے ہیں یہ کہہ کر ” جوڑا تے ہونا چاہیدا کل نوں اک نوں کج ہو جاے تے فیر ” اور آخر میں یہ بھی چاہتے ہیں کے ہماری اولاد بھی اسی طرح زندگی گزرے جس طرح ہم نے گزاری تھی .

اپنا تبصرہ بھیجیں