خدا نے جنات کیوں بنائے؟ انتہائی اہم تحریر، ضرور پڑھئے!

" >

اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ’’اور ہم نے انسان کو کھنکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا اور جنّات کو اس سے بھی پہلے بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا ‘‘ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’بے شک ہم نے انسان کو بہترین انداز پر بنایا ہے۔ ‘‘(سورۂ والتّین )حضورِ اکرم ؐ کا ارشادِ مبارک ہے ’’
انسان اپنی خلقت میں سب سے اشرف ہے ،خوب صورت اور وضع قطع میں دُنیا کی کوئی چیز اِس کے مد مقابل نہیں۔‘‘ (اسلام کا نظام حیات) جنّات بھی اللہ کی مخلوق ہیں، جنہیں انسان کی پیدائش سے قبل پیدا کیا گیاتھا۔ شیخ تقی الدین ابن تیمّی ؒ فرماتے ہیں کہ ’’کسی نے بھی جنّات کے وجود کا انکارنہیں کیا۔ اکثر کفار بھی اِن کے وجود کے قائل ہیں ، کیوں کہ جِنّات کے وجود سے متعلق انبیائے کرامؑ کے ارشادات حدِتواتر تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ جاہل فلسفیوں کی معمولی جماعت کے علاوہ جنّات کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا ۔ جنّ کے معنیٰ چھپے ہوئے یاپوشیدہ کے ہیں۔جس لفظ میں ج اور ن ایک ساتھ آتے ہیں، اُن پر تشدید بھی لگی ہو تو اِس میں پوشیدگی کا عنصرظاہرکیاجاتا ہے مثلاً جنت ، جنین (وہ بچہ جو رحمِ مادر میں ہو) ۔اِسی طرح ایک اور لفظ جنون ہے جس کے معنی عقل پرپر دہ ڈالنا ہے۔ جنان کا اطلاق دل پر اس لیے کرتے ہیں کہ وہ خود پَسلیوں کے پیچھے پوشیدہ اور اُس کے اندربھی خیال چھپے ہوتے ہیں۔اسی طرح جنّہ ڈھال کوبھی کہاجاتاہے جو ایک حربی ہتھیار ہے،
جسے سامنے کرکے سپاہی اپنے مخالف کے وار سے خود کو چھپا لیتا ہے اور کاری وار سے بچ جاتا ہے ۔چناںچہ اِسے جِن کا نام اسی لیے دیا گیا کہ یہ لطافتِ مادّہ کے سبب ہماری حسِ بصیر (دیکھنے کی صلاحیت ) سے پوشیدہ ہے ۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ ایک غیر مرئی مخلوق ہے ۔اس مخلوق کا ذکر قرآن حکیم میں 8سورتوں کی 12اور سورۂ جنّ کی 15آیات میں موجود ہے۔ سورۂ انعام آیت 112اور 128،الحجر 27-26،بنی اسرائیل 88،النمل 39،سبا 12تا14،الذّاریات 56،الرحمن 33اور15سورۂ احقاف آیت29۔ جنّات کی تخلیق کب اور کس طرح ہوئی؟ بعض محققین اور تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جنات کو آدم ؑ کی تخلیق سے دو ہزار سال قبل تخلیق کیا گیا تھا۔ قرآن حکیم میں اِس کا ذکر اس طرح آیا ہے، ’’اور ہم نے انسان کو کھنکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا ۔‘‘(سورۃ الحجر آیات 27-26)ایک اور جگہ ارشاد ہے ’’اُس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا اور جِنّات کو آگ کے شعلے سے پید ا کیا۔‘‘ (سورۂ رحمن، آیات 14-15) ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ صلصال خُشک مٹّی اور جس میں آواز ہو فخار اور آگ میں پکی ہوئی مٹی کو ٹھیکری کہتے ہیں ۔ مارج سے مراد سب سے پہلا جن ہے جسے ابو الجن کہا جا سکتا ہے ،جیسے حضرت آدم ؑ کو ابو ا لآدم کہا جاتا ہے ۔ یہاں مراد جنّات کا باپ یا جنّ بطور جنس کے لیے جیسا کہ ترجمہ جنس کے اعتبار سے ہی کیا گیا ہے۔ لغت میں مارج آگ سے بلند ہونے والے شعلے کو کہتے ہیں۔(تفسیر ابن ِکثیر ) تفہیم القرآن میں سیّدمودودی رقم طراز ہیں کہ’’ نار سے مراد ایک خاص نوعیت کی آگ ہے نہ کہ وہ آگ جو لکڑی یا کوئلہ جلانے سے پیدا ہوتی ہے
اور مارج کے معنی ہیں خالص شعلہ جس میں دھواں نہ ہو، جس طرح پہلا انسان مٹّی سے بنایا گیا پھر تخلیق کے مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے اس کے لبد خاکی نے گوشت پوست کے زندہ بشر کی شکل اختیار کی اور آگے اس کی نسل نطفے سے چلی۔اِسی طرح پہلا جن خالص آگ کے شعلے یا آگ کی لِپٹ سے پیدا کیا گیااور بعد میں اس کی ذُرّیت سے جنّ کی نسل پیدا ہوئی۔ ان کا وجود بھی اصلاً ایک آتشیں وجود ہی ہے لیکن جس طرح ہم محض ایک تودۂ خاک نہیں ،اسی طرح وہ بھی محض شعلۂ آتشیں نہیں ہیں ۔‘‘(تفسیر سورۂ رحمن، آیت 15) ایک روایت میں ہے کہ جنّات کو جمعرات کو تخلیق کیا گیا تھا ۔ جنّات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، جس کی تصدیق قرآنِ حکیم نے ان الفاظ سے فرمائی ہے’’اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ (سورۃالذّاریات، آیت 56) اس آیۂ مبارکہ سے ثابت ہو رہا ہے انسان ایک مخلوق ہے، جسے اللہ نے عبادت کے لیے پیدا کیا، اِسی طرح جنّات بھی مخلوق ہیں، انہیں بھی عبادت کے لیے پیدا کیاہے اورقرآن ِحکیم ان دونوں مخلوقات کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔ اہل ِعرب دور ِجاہلیت میں بڑے تو ہم پرست تھے۔ 360بتوں کی تو وہ پُوجا اور پرستش کرتے ہی تھے اور اس میں شِدت کا یہ عالم تھا کہ ہر خاندان اور قبیلے کا ایک الگ بُت ہوتا تھا۔ کوئی ایک قبیلہ دوسرے کے بُت کی پوجا کا مکلف نہ تھا ۔ چناں چہ اِسی دور میں جب عرب قوم کے لوگ کسی سفر پر روانہ ہوتے تو راستے میں کوئی
وادی یا خوف ناک بیابان آجاتا تو وہاں سے گزرتے وقت یہ الفاظ اداکرکے گزرتے ’’میں اس وادی کے سردار اور اس کی قوم کے بے وقوفوں سے پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ان کے خیال میں بیابانوں پر جنّات کا تسلط تھا اوروہ جنوں کے سردار کی اس لیے پناہ طلب کرتے تھے کہ اس کے ما تحت بسنے والے جِنّ انہیں اَذیت نہ پہنچائیں ۔ مطلب یہ کہ ان رسوم اور اَقوال سے انسانوں نے جِنّات کو مغرور بنا دیا تھا ۔اس کے علاوہ اِس مخلوق میں سر کشی ونافرمانی کا بھی مادّہ موجود ہے اور اس بناء پر ایسا ہونا بھی چاہیے کیوں کہ آگ کا خاصہ یہی ہے کہ وہ سر ُاٹھائے اور سوزش اور جلن کو نتیجے میں دکھلائے ۔ جنّات میں بھی نیک اور بد دونوںموجودہوتے ہیں، بزرگ بھی ہوتے ہیں اور بَد نفس بھی ۔یہ مختلف رُوپ دَھار کر روئے زمین پر وارد ہوتے ہیں۔اِنہیںمیں سے ایک جِن کا نام اِبلیس ہے جو انسان کی دشمنی میں اندھا ہوگیا ہے اور اس نے نسلِ آدم کو بہکانے کے لیے قیامت تک کی مہلت لے لی ہے۔ یہ وہی ابلیس ہے جس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی تھی اور حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اِس کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کیا گیا ہے ’’ جب کہ آپ کے رَبّ نے فرشتوں سے ارشاد فرمایا،میں مٹّی سے انسان کو پیدا کرنے والا ہوں، سو جب میں اِسے ٹھیک ٹھاک کرلوں اور اس میں اپنی رُوح پھونک دوں تو تم سب اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا ،چناں چہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا، اس نے تکبّر کیا ،اور وہ تھا کافروں میں سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے ابلیس !تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا ،جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ،کیا تُو کچھ غرور میں آگیا ہے، یا تُو بڑے درجے والوں میں سے ہے ۔اُس نے جو اب دیا کہ میں اس سے بہتر ہوں تُو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اِسے مٹّی سے۔ ارشاد ہوا کہ، تُو یہاں سے نکل جا،تُومردُود ہوا اورتجھ پر قیامت کے دن تک لعنت و پھٹکار ہے ۔ کہنے لگا ،میرے رَبّ مجھے لوگوں کے اُٹھ کھڑے ہونے کے دن (قیامت ) تک کی مہلت دے ۔ فرمایا، تُو مہلت والوں میں سے ہے متعین وقت کے دن تک۔ کہنے لگا ،پھر تو تیری عزّت کی قسم! میں اِن سب کو یقینا بہکا دوں گا۔ بجز تیرے اُن بندوں کے جو چیدہ اور پسندیدہ ہوں۔ فرمایا، سچ تو یہ ہے اور میں سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں جہنم بھر دوں گا۔‘‘(سورۂ ص ٓ ، آیات 72تا85) اِس طرح کے جِنّ اور شیاطین صرف روئے زمین پر ہی اپنے مذموم عزائم برپا کرسکتے ہیں ، آسمانوں پر اِن کا داخلہ ممنوع ہے۔ اگر وہ ملائکہ ؑاور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہونے والی گفت و شنیدکی ٹوہ میں جاتے ہیں تو اِن پر ستاروں کی مار لگائی جاتی ہے او ر وہ
زمین کی طرف چیختے چلاتے واپس آجاتے ہیں ۔ایک اور مقام پر ارشاد ہے’’ یقینا ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لیے اِسے سجادیا ہے اور اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھاہے ہاں مگر جو چوری چھپے سُننے کی کوشش کرے، اُس کے پیچھے دہکتا ہوا شعلہ لگتا ہے۔‘‘ (سورۃ الحجر آیات، 16تا18) اس آیۂ مبارکہ میں دو الفاظ رجیم اور مردُو دآئے ہیں۔ رجیم کے معنیٰ سنگ سار کرنے کے ہیں ۔شیطان کو رجیم اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ جب یہ آسمانوں پر جانے کی کوشش کرتے ہیںتوان پر شہاب ثاقب برسائے جاتے ہیں ۔اس سے کچھ شیاطین تو اسی وقت جل مرتے ہیں اور جو بچ کر آتے ہیں وہ نجومیوں اور کاہنوں سے مل کر شرارت کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری ) ستارے آسمانوں کی زینت ہیں ۔رات میں وہ نہ صرف مسافروں کی اور اوقات کی راہنمائی کرتے ہیں بلکہ نافرمان جنّ و شیاطین کو سبق سکھانے کے لیے گرز کا کام بھی دیتے ہیں۔ جنّات میں جہاں بد طینت قسم کے گروہ ہوتے ہیں وہاں اچھے ،نیک اور بزرگ گروہ بھی ہوتے ہیں۔جو اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ان میں ہدایت حاصل کرنے کا عزم اور ولولہ بھی ہوتاہے، جس کی اوّلین مثال حضرت سلیمان ؑ کی ہے جن کے تابع رہ کر وہ مشکل سے مشکل اُمور انجام دیتے تھے۔ دوسری مثال آنحضرت محمد مصطفی ؐ کے دورِ نبوت کی ہے جب ایک مرتبہ جنّات نے آنحضور ؐ سے قرآنِ حکیم سُنا۔ اس گروہ نے جہاں آپؐ کی زیارت
کا شرف حاصل کیا وہاں اپنی سماعتیں بھی مُنوّر کیں اور پھر اپنے قبیلے یا خاندان میں جاکر حیرت و استعجاب کے ساتھ یہ واقعہ سُنایا۔ ’’آپؐ کہہ دیں کہ مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنّوں کی ایک جماعت نے قرآن سُنا اور کہا کہ ہم نے عجب قرآن سنا ہے جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے ،ہم اس پر ایما ن لاچکے ،ہم ہرگز کسی کوبھی اپنے رَبّ کا شریک نہیں بنائیں گے اور بے شک ہمارے رَبّ کی شان بڑی بلند ہے، اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹااور یہ کہ ہم میں کا بے و قوف اللہ کے بارے میں خلافِ حق باتیں کرتا تھا اور ہم تویہی سمجھتے رہے کہ نا ممکن ہے کہ انسان اور جنّات اللہ پر جھوٹی تہمتیں لگائیں ۔بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنّات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنّات اپنی سر کشی میں بڑھ گئے اور (انسانوں ) نے بھی تم جنّوں کی طرح گمان کر لیا تھا کہ اللہ کسی کو نہ بھیجے گا اور ہم نے آسمان کو ٹٹول کر دیکھا تو اسے سخت چوکیداروں اور سخت شعلوں سے پُر پایا۔ اس سے پہلے ہم باتیں سننے کے لیے آسمان پر جگہ جگہ بیٹھ جا یا کرتے تھے اب جو بھی کان لگاتا ہے وہ ایک شعلے کو اپنی تاک میں پاتا ہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے ۔ یا ان کے رَبّ کا ارادہ ان کے ساتھ بھلائی کا ہے
اور یہ کہ ہم نیکو کار ہیں اور بعض اس کے برعکس بھی ہیں ،ہم مختلف طریقوں سے بٹّے ہوئے ہیں اور ہم نے سمجھ لیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو ہر گز عاجزنہیں کرسکتے اور نہ ہم بھاگ کر اُسے ہر اسکتے ہیں ،ہم تو ہدایت کی بات سنتے ہی اس پر ایمان لا چکے، اور جو بھی اپنے رَبّ پر ایمان لائے گا اسے نہ کسی ظلم کا اندیشہ ہے نہ ستم کا، ہاں ہم میں بعض تو مسلمان ہیں اور بعض بے انصاف ہیں ،پس جو فرماں بردار ہوگئے انہوں نے تو راہِ راست کا قصد کیا اور جو ظالم ہیں وہ جہنم کا ایندھن بن گئے ۔‘‘(سورۂ جن،ّ آیات1تا15) یہ واقعہ مکّے کے قریب وادی ٔ نخلہ میں پیش آیا، جہاں آپؐ صحابہ کرام ؓ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ جنّوں کو تجسّس تھا کہ آسمان پر ہم پر بہت زیادہ سختی کردی گئی ہے اور اب ہمارا وہاں جانا تقریباً نا ممکن بنا دیا گیاہے، کوئی بہت اہم واقعہ رونما ہوا ہے، جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے ۔چناں چہ مشرق و مغرب کے مختلف اطراف میں جنّوں کی ٹولیاں واقعے کا سراغ لگانے کے لیے پھیل گئیں ۔انہی میں سے ایک ٹولی نے قرآن سنا اور یہ بات سمجھ لی کہ نبی ؐ کی بعثت کا واقعہ ہی ہم پر آسمان کی بندش کا سبب ہے۔ جنّوں کی یہ ٹولی آپؐ پر ایمان لے آئی اور جا کر اپنی قوم کو بھی بتلایا ۔(صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ ) مکّہ مکرّمہ میں حرم کے قریب جہاں یہ وقوعہ پیش آیا وہاں اب مسجدِ جنّ بنا دی گئی ہے ۔بعض دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد آپؐ جنوں کی دعوت پر ان کے ہاں تشریف بھی لے گئے اور اُنہیں اللہ کا پیغام سنایا۔ متعدد مرتبہ جنّوں کا وفد آپ ؐ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا۔ (ابن کثیر) جن و شیاطین کا ذکر قرآن حکیم میں 120سے بھی زائد مقامات پر آیا ہے ۔ انس بھی عربی لفظ ہے جس کے معنی آدمی اور شخص کے ہیں ۔لفظ انسان بھی اِسی سے نکلا ہے ۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ متعدد بار دوہرایا گیا ہے ، بلکہ یوں کہا جائے کہ قرآن جو اللہ کی نازل کردہ آخری الہامی اور آسمانی کتاب ہے ،اس کا مخاطب دُنیا کا ہر انسان ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں