غلطی کسی کی سزا کسی اور کو مل گئی : نااہل اسد عمر نہیں تھا بلکہ کونسا وفاقی وزیر ہے جس کی بھیانک غلطی سابق وزیر خزانہ کے گلے پڑ گئی ؟ اصل کہانی سامنے آ گئی

" >

لاہور (ویب ڈیسک) وہ تاریخ کے پہلے وزیر اطلاعات تھے جو اپنے متعلقہ محکموں کو ہمیشہ بری خبر سنایا کرتے۔حکومت کا عوام میں تاثر اچھا بنانے سے لے کر میڈیا کے حالات بہتر کرنے تک وہ ہر جگہ ناکام رہے، واحد کامیابی یہی کہی جا سکتی ہے کہ ایک نجی چینل کی سکرین پر

نامور کالم نگار مخدوم اطہر محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی نوکری پکی کر لی۔دوسری طرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر من پسند بھرتیوں کا الزام لگاتے لگاتے اپنے کافی بندے سرکاری ٹی وی میں ایڈجسٹ کر لیے۔ڈی ٹی ایچ لانے کا اعلان فرمایا اور رتی برابر معاملہ آگے نا بڑھ سکا۔ریڈیو پاکستان کی عمارت بیچنے سے لے کراشتہارات کے نرخ کم کرنے تک، وزارت اطلاعات کو اس انداز میں چلانے کی کوشش کی جس طرح متحدہ کے بانی ایم کیو ایم کو چلاتے رہے۔ہروہ کوشش کی جس سے ملکی میڈیا کو بے جان کر کے زمین سے لگا دیا جائے۔وزارت اطلاعت کے سنگھاسن پران کے ورودِ نا مسعود سے لے کر سبکدوشی تک آٹھ ماہ میں سات ہزارسے زائد میڈیا ورکرز بے روزگار ہوئے۔ اس کا سبب ان کی میڈیا کش پالیسیاں تھیں اور وبا کی مانند پھیلتی اس بےروزگاری سے فواد چوہدری کسی طرح بھی بری الذمہ قرار نہیں دئیے جا سکتے۔ اخبارات اور چینلز کے اشتہارات کی بندش سے لے کرنیوز چینل بند کرنے کی دھمکیوں تک پورا زور لگایا کہ میڈیا اور حکومت کے تعلقات کو خراب کیا جائے۔ اور بہت حد تک اس کوشش میں کامیاب بھی رہے۔ وہ چینلز اور اخبارات جو کبھی” تبدیلی“کا انتظار کرتے مڈ کیرئیر صحافیوں سے بھرے پڑے تھے، جہاں نیوز رومز اور دیگر شعبے صرف تبدیلی کی آس میں پی ٹی آئی کو اس کے حق سے کہیں زیادہ کوریج دیتے رہے،اب وہ سارے اس تبدیلی کو کوس رہے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ فواد چوہدری کے دھمکی آمیز بیانات اور ان کی میڈیا دشمن پالیسیاں رہیں۔

جب اطلاعات و نشریات کا وزیر ہی ہر فورم پر کہتا پھرے کہ نیوز چینلزکم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ،انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو فروغ دیں گے تو پھر صحافت کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی ہی پھیلے گی۔ اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ضرور فروغ دیں لیکن نیوز انڈسٹری کو تباہ کر کے محسن کشی کی روایت برقرار رکھنے کے سواآپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ یونیورسٹیاں کیوں ماس کمیونیکشن کے طلبہ کو ڈگریاں دے رہی ہیں،یہ کہاں جائیں گے۔اگر وہ ذرا بھی مثبت سوچ کے مالک ہوتے تو یہ کہتے کہ جتنے بھی ڈگری یافتہ طلبہ ہیں ان سب کو نوکریاں دینے کی کوشش کریں گے۔اصل میں ان کا تجربہ” ترجمان“بن کردوسری جماعتوں کی تضحیک تک محدود تھا۔ہیڈ لائن چلانے کیلئے صرف زبانی فائرنگ کی صلاحیت کافی ہوتی ہے ، وزارت چلانا ایک بالکل مختلف کام ہے جس کے کیلئے کچھ مثبت صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔بہت سے صحافیوں کو کہتے سنا کہ خداسائنسدانوں کے حالات پر رحم کرے۔ ہر کامیاب حکومت کے پیچھے ایک اچھا وزیر خزانہ اور اچھا وزیر اطلاعات ہوتا ہے ۔ اور کسی بھی حکومت کی ناکامی میں بنیادی نالائقی خزانہ اور اطلاعات کے وزیروں کی ہوتی ہے ۔اہل وزیر خزانہ مہنگائی کو کنٹرول کر کے عوام کو آسان زندگی دینے کی کوشش کرتا ہے تو وزیر اطلاعات عوام کی نظر میں حکومت کا اچھا تاثر قائم کرتا ہے ۔ کپتان کی حکومت اس معاملے میں بد قسمت ثابت ہوئی کہ 22برس کی اپوزیشن کے بعد حکومت ملی تو خزانہ اور اطلاعات ایسے وزرا کے ہاتھ میں آ گئیں

جن کی اہلیت کے بارے میںاکثر دل خوش گمانی سے بھرے تھے مگر حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ اسد عمر نے خزانے کا اورفواد چوہدری نے میڈیا کا وہ حشر کیا ہے کہ ریزہ ریزہ سمیٹتے بھی مدتیں لگیں گی۔اب حال یہ ہے کہ سب خوش گمانیاں تواڑ ن چُھو ہوگئیںالٹا ان کی نیت پربڑے سے سوالیہ نشان لگ چکے ہیں ۔سابق وزیر خزانہ کی خوش لباسی، خوش گفتاری اور خوش اطواری کا زمانہ قائل ہے ،بس ملکی معیشت کو چلانے کی اہلیت پر یقین اٹھ گیاہے۔رہے سابق وزیر اطلاعات تو خوش گفتاری تو ان کی خوبی کبھی تھی ہی نہیں ۔ہاں طعنے اور طنز کے نشترچلاتے چبھتے جملوں سے اپنی تنخواہ حلال کرنے کی کاوش کرتے رہے۔کبھی کبھی رکیک فقرات بھی کہہ دیتے لیکن ہماری سیاسی اخلاقیات جس درجے سوقیانہ ہو چکی ہے اس میں ان جملوں کوزیادہ سیریس نہیں لیا جاتا۔ مشرف سے لے کر نون لیگ کے عہد تک اوسطاً ہر عہد میں تین افرادوزیر اطلاعات کے منصب جلیلہ پر فائز رہے۔کچھ نے عزت کمائی ،کچھ اچھا تاثرچھوڑنے میں ناکام رہے۔ لیکن سبکدوش ہونے والے وزیر اطلاعات نے اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ اور میڈیا میں جس حد تک منفی تاثر چھوڑا اس کی مثال ماضی قریب میں تو نہیں ملتی،شایدکہیں پچاس ساٹھ برس قبل مارشل لا دور کے کسی وزیر اطلاعات نے ایسا” نام“ کمایا ہو تو ہو۔نئی مشیر اطلاعات کا ابتدائی رویہ تو خاصا حوصلہ افزا ہے ۔امید ہے وہ رویے اور پالیسی دونوں میں بہتری لا کرمیڈیا کے فروغ کی کوشش کریں گی۔اداروں کے حالات بہتر ہوں گے تو ہی حکومت اور صحافیوں کے تعلقات میں گرمجوشی آئے گی ۔صرف اسی صورت میں وزارت اطلاعات حکومت کا تاثر بہتر بنانے میں کامیاب ہو سکے گی

اپنا تبصرہ بھیجیں